بھٹکل:7/ ڈسمبر (ایس او نیوز) اپنی خوشبو اور سجاوٹ کے لئے دنیا بھرمیں مشہور بھٹکل کے چمیلی کےپھولوں سے اچانک تعفن نکلنیشروع ہو گئی ہے، چمیلی کے نام پر بھی مافیا کام کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں، جس کے نتیجے میں چمیلی پھول کے کاشتکار وں کو مشکلات درپیش ہیں۔
تعلقہ میں 50ہیکڑسے زائد زمین پر چمیلی کی فصل ہوتی ہے، 1000 سے زائد کسان چمیلی کی کاشتکاری کرتے ہوئے اسی کو روزگار بنائے ہوئے ہیں۔ مردوخواتین اس سے منسلک ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ شرالی، تٹی ہکل، بینگرے علاقوں میں سیکڑوں لوگ دور دراز کے ہوٹلوں کی ملازمت کو خیرباد کہتے ہوئے اپنے گھروں کے اطراف چمیلی کی کاشت کرتے ہوئے گزارا کررہے ہیں۔ چمیلی سے جڑے لوگوں کو یہ صرف روزگار ہی نہیں بلکہ پھولوں کی کاشت سے اُنہیں عزت بھی ملتی ہے۔ سال بہ سال چمیلی کی کاشتکاری ایک زبردست صنعت کاری کے طورپر منتقل ہونے کے امکانات ہیں۔ بھٹکل کی چمیلی روزانہ کارکلا، اُڈپی ، منگلورو ، کیرلا اور سمندر پار خلیجی ممالک کو بھی روانہ کی جاتی ہے، اس سے لاکھوں روپئے کی تجارت ہوتی ہے۔ لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اس میں کچھ ایجنٹ حضرات بھی دست درازی کررہے ہیں، زیادہ کمائی کو دیکھتے ہوئے چند لوگوں کا گروہ چمیلی کی سپلائی پر قبضہ جمانے کے نتیجے میں چمیلی کے کاشت کار وں کو کوئی فائدہ نہیں ہونے کا الزام سننے میں آرہا ہے۔ ایجنٹ لکھ پتی بن رہے ہیں تو کسان زوال پذیر ہیں، دلالوں میں مقابلہ آرائی کے نتیجے میں اور ایک گروہ پیدا ہوگیا ہے جو کسانوں کو کچھ منافع دینے کی کوشش کررہاہے، لیکن دونوں گروہوں کی رسہ کشی سے کسانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، کسانوں کو چمیلی کی فصل پر ٹھیک قیمت نہیں مل پارہی ہے، کسانوں کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاتھوں بھٹکل میں 10،12،13کے طورپر قیمت طئے کرکے لیا جاتاہےاور اُڈپی ، کارکلا وغیرہ میں 50روپیوں سے زائد قیمت پر فروخت کیا جارہاہے۔ ویسے چمیلی کاشتکاروں نے اپنا ایک سنگھا بنا کر متحد ہونے کی کوشش کی تھی جو ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکی ہے۔ کسان اپنی پریشانیوں اور مسائل کو لے کر عوامی نمائندوں کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چمیلی کی خوشبو سازگار فضا میں پھیلتی ہے یا پھر وقت کے ہاتھوں گم ہوجاتی ہے۔
اس سلسلے میں مقامی رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے اپنی طرف سے دلالوں اور چمیلی کاشتکاروں کی میٹنگ کرتے ہوئے کسانوں کو تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن چمیلی کے دلال بڑے رئیس گھرانے کے ہیں، کسی کی بات خاطر میں لانے والے نہیں ہیں، اب میرے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ وزیر باغبانی سے ملاقات کرتے ہوئے چمیلی کی کاشت کو ایک مناسب اور منافع بخش مارکیٹ مہیا کرنے کی اپیل کروں۔ آگے کیا ہوتاہے دیکھیں گے۔